دیکھو، سنو اور جیو کتاب نمبر 2

Samenvatting: Jacob, Joseph, Moses. 24 sections. It has a picture book to go along with the recording.

Scriptnummer:419
Taal:Urdu
Thema:Law of God; Multiple themes
Gehoor:General
Doel:Teaching
Bijbelse verwijzing:Paraphrase
Toestand:Publishable

Tekst van het script

باب نمبر ۲:خُدا کے شہ زور مرد بھائیو اور بہنو ! کیا آپ سچے اور واحد خُد کو جانتے ہیں؟ آئیے

باب نمبر ۲:خُدا کے شہ زور مرد        بھائیو اور بہنو ! کیا آپ سچے اور واحد خُد کو جانتے ہیں؟ آئیے

( پیدائش ۲۵: ۲۱۔ ۳۴، ۲۷: ۱۔ ۲۹

۱۔ دو بھائ

دو بھائی تھے ۔ بڑے بھائی کا نام عیسو تھا جو ایک زبردست شکاری تھا۔ چھوٹے بھائی کا نام یعقوب تھا۔ یعقوب نے ایک مزیدار کھانا پکایا۔عیسو نے یعقوب سے کھانا مانگا۔ وہ اپنے بھائی کو کھانا نہیں دینا چاہتا تھا۔یعقوب نے اپنے بھائی عیسوسے کہا، ’’ پہلے اپنے پہلوتھا ہونےکا حق مجھے دے‘‘۔ یعقوب خاندانی وراثت لینا چاہتا تھا جو سب سے بڑے بیٹے کا حق ہوتی ہے۔عیسو نے اپنی وراثت کی پرواہ نہ کی۔وہ صرف اپنے خالی پیٹ کے بارے میں سوچ رہا تھا۔صرف ایک وقت کے کھانے کی خاطر اُس نے اپنا پہلوٹھا ہونے کا حق بیچ ڈالا۔ یعقوب نام کا مطلب ’’ دھوکے باز ‘‘ ہے۔ یعقوب کی فطرف میں دوسروں کو دھوکہ دینا تھا۔ حتیٰ کہ یعقوب نے اپنے سگے باپ اضحاق کو بھی دھوکہ دے دیا۔

۲۔ یعقوب کا خواب

۲۔ یعقوب کا خواب

پیدائش ۲۸: ۱۰۔ ۲۲

عیسو یعقوب سے نفرت کرتا تھا۔ وہ اُسے مار ڈالنا چاہتا تھا۔یعقوب اپنےگھر سے بھاگ نکلا۔ اُس نے ایک خواب دیکھا کہ ایک سیڑھی زمین پر کھڑی ہے۔ اُس کا سرا آسمان تک پہنچا ہوا ہے۔اُس نے خُدا کو آسمان میں سیڑھی کے اوپر کھڑے اور خُدا کے فرستوں کو نیچےزمین پر اترتے چڑھتے دیکھا۔خُدا نے یعقوب سے کہا، ’’ مَیں یہ زمین تجھے اور تیری نسل کو دوں گا اور زمین کے سب قبیلے تیرے اور تیری نسل کے وسیلہ سے برکت پائیں گے۔دیکھ مَیں تیرے ساتھ ہوں اور ہر جگہ جہاں کہیں تو جائے تیری حفاظت کروں گا‘‘۔خدا جانتا تھا کہ یعقوب دھوکہ باز ہے۔خُدا یعقوب سے پیار کرتا تھا اور اُسے بدلنا چاہتا تھا۔اِسی لئے خُدا نے اُس کے ساتھ بڑے بڑے وعدے کئے تھے۔

۳۔ یعقوب اور لابن

۳۔ یعقوب اور لابن

پیدائش ۲۹: ۱۔ ۳۱: ۵۵

یعقوب نے دوسروں کو دھوکہ دینےکا سلسلہ جاری رکھا۔ لیکن کبھی کبھار دوسرے لوگ اُسے دھوکہ دےجاتے تھے۔یعقوب اپنے ماموں لابن کے ہاں چلا آیا اور اُس کےلئے کام کرنے لگا۔یعقوب لابن کی چھوٹی بیٹی راخل سے شادی کرنا چاہتا تھا۔وہ راخل کے لئے سات برس تک لابن کے ہاں کام کرتا رہا پھر لابن نے یعقوب کو دھوکہ دیتے ہوئے پہلے اپنی بڑی بیٹی لیاہ کو یعقوب کے ساتھ بیاہ دی۔ لابن یعقوب سے راخل کے لئے مزید سات سال کام کراتا رہا۔یعقوب نے لابن کو دھوکہ دینے کا ارادہ کیا۔اُس نے لابن کے گلے میں سے اپنےلئے بہترین جانور الگ کر لیے۔ ایک دن خُدا نے یعقوب سے فرمایا ،’’ تو اپنے باپ کے ملک میں لوٹ جا‘‘۔

۴۔ یعقوب کی خُدا سے ملاقات

۴۔ یعقوب کی خُدا سے ملاقات

پیدائش ۳۲: ۱۔ ۳۲

یعقوب اپنے وطن کو لوٹ جانا چاہتا تھا۔وہ عیسو سے ڈرتا تھا۔ دوسروں کو دھوکہ دینے والےکو زندگی بھر بدلے کا ڈررہتا ہے۔ایک رات جب یعقوب اپنے وطن کی طرف سفر کر رہا تھا ایک شخص یعقوب کے پاس آیا۔وہ تمام رات یعقوب سے کشتی لڑتا رہا۔ جب سورج نکل رہا تھا تو اُس شخص نے یعقوب کی ران کو اندر کی طرف سے چھوا اور اُس کی نس چڑھ گئی۔ یعقوب جانتا تھا کہ وہ شخص خُدا کی طرف سے تھا۔یعقو ب اور زیادہ کشتی نہیں لڑ سکتا تھا۔ اُس نے کہا ،’’ جب تک تو مجھے برکت نہ دے مَیں تجھے جانے نہیں دوں گا۔
اُس شخص نے یعقوب سے کہا،’’ تیرا نام آگے کو یعقوب نہیں اسرائیل ہو گا‘‘۔ اسرائیل کے معنی ہیں ایک شہزادہ جس نے خُدا کے ساتھ زور آزمائی کی۔خُدا کو اِس ’’دھوکے باز‘‘ یعقوب کا زور توڑنا پڑا تاکہ اُس کی فطرت بدل جائے۔اسرائیل سلامتی سے اپنے خاندان میں لوٹ آیا ۔ وہ ایک خُدا کی عبادت کرنے والی بڑی قوم کا باپ بن گیا۔ بھائیو اور بہنو ! جب ہم دوسروں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم خُدا کی مرضی کے خلاف لڑ رہے ہوتے ہیں۔ لیکن خُدا نے ایک ایسی ہستی کو بھیج دیا ہے جو ہمیں بھی تبدیل کر سکتی ہے۔وہ ہستی خُداوند یسُوع مسیح ہے۔

۵۔ یوسف کا خواب

۵۔ یوسف کا خواب

پیدائش ۳۷: ۱۔ ۱۱

یعقوب یعنی اسرائیل کے بارہ بیٹے تھے۔ یوسف اِس کا سب سے چہیتا بیٹا تھا۔ یعقوب نے یوسف کو ایک خوبصورت لباس بنوا کر دیا تھا۔ یوسف کے دوسرے بھائی اُس سے جلنے لگے۔ ایک رات یوسف نے خواب دیکھا۔اُس نے اپنے بھائیوں سے کہا ،’’ ذرا وہ خواب سنو ! جو مَیں نے دیکھا ہے۔ ہم سب کھیت میں پولے باندھتے تھے تو تمہارے پولوں نے میرے پولے کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور اُسے سجدہ کیا‘‘۔یہ بات سن کر بھائی بہت غصّے میں آگئے۔ کیا اِس خواب کا مطلب تھا کہ وہ اپنے چھوٹے بھائی کے آگے جھکیں گے؟ یوسف کے بھائیوں کو اِس سے نفرت ہوگئی۔ اور وہ اُسے نقصان پہنچانے کا موقع ڈھونڈنے لگے۔

۶۔ یوسف کو بیچ دیا گی

۶۔ یوسف کو بیچ دیا گی

پیدائش ۳۷: ۱۲۔ ۳۶

یوسف کے بھائی گھر سے کہیں دور اپنی بھیڑ بکریاں چرا رہے تھے۔ یعقوب کو اِن کی فکر ہونے لگی۔ وہ یوسف سے بولا،’’ جا دیکھ تیرے بھائیوں اور بھیڑ بکریوں کا کیا حال ہے‘‘؟ بھائیوں نے یوسف کو اپنی طرف آتے دیکھا تو انہوں نے یوسف کو مار ڈالنے کا ارادہ کیا۔بھائیوں نے یوسف کا خوبصورت لباس اُتار کر اُسے ایک سوکھے کنوئیں میں ڈال دیا۔ اُن میں سے ایک کہنے لگا،’’ اپنے بھائی کو قتل کردینے سے ہمیں کیا حاصل ہوگا؟ آؤ ہم اُسے ایک غلام کہہ کر بیچ دیں‘‘۔اُسی وقت کچھ سوداگر اُدھر آنکلے۔
بھائیوں نے یوسف کو چاندی کے بیس سکوں میں بیچ دیا۔ پھر اُنھوں نے یوسف کے لباس پر بکرے کے خون کے دھبے لگا دیئے اور اپنے باپ کے پاس لے گئے ۔ یعقوب کو یقین ہو گیا کہ یوسف کو کسی جنگلی درندے نے پھاڑ کھایا ہے۔ وہ گہرے دُکھ کے ساتھ اُس کے لئے ماتم کرتا رہا۔

۷۔ یوسف اور بدکار عورت

۷۔ یوسف اور بدکار عورت

پیدائش ۳۹: ۱۔ ۲۰

خُدا یوسف کے ساتھ تھا۔وہ اپنے ہر کام میں کامیاب ہوتا تھا۔جلد ہی فوطیفار نے اُسے اپنے گھر کا مختار بنا لیا۔ یوسف بہت خوبصورت نوجوان تھا۔ فوطیفار کی بیوی یوسف کو بری نگاہ سے دیکھنے لگی وہ اُسے ہم بستری کے لئے مجبور کرتی رہی۔ یوسف نے اُس کی بات نہ مانی وہ فوطیفار کے گھر سے بھاگ نکلا۔
فوطیفار کی بیوی نےجب یوسف کا لباس کھینچا تو یوسف کے لباس کا کچھ حصّہ اُس کے ہاتھ میں رہ گیا۔وہ کپڑا اپنے شوہر کے پاس لے گئئ اور یوسف پر اپنے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش کا الزام لگا دیا۔ فوطیفار نے غصّے میں آکر یوسف کو قید میں ڈال دیا۔

۸۔ یوسف قید خانہ می

۸۔ یوسف قید خانہ می

پیدائش ۳۹: ۲۰۔ ۴۰: ۲۳

خُدا قید خانہ میں بھی یوسف کے ساتھ تھا۔ وہ قید خانہ کے داروغہ کی نظر میں مقبول ہونے لگا۔ جلد ہی یوسف کو سب قیدیوں کا
مختار بنا دیا گیا۔ اِن ہی دنوں بادشاہ کا سردار ساقی اور نان بائی قید میں ڈالے گئے۔ ایک رات اِن دونوں نے خواب دیکھے۔یوسف نے اُن سے کہا، ’’ کیا تعبیر کی قدرت خُدا کو نہیں؟ مجھے ذرا وہ خواب بتاؤ‘‘۔ سردار ساقی نے بتایا،’’ مَیں نے خواب میں دیکھا کہ ایک انگور کی بیل ہے جس کی تین شاخیں ہیں۔ مَیں نے انگوروں کو لے کر بادشاہ کے پیالے میں نچوڑا اور وہ پیالہ مَیں نے بادشاہ کے ہاتھ میں دیا‘‘۔ یوسف نے اُس سے کہا، ’’ اُس کی تعبیر یہ ہے کہ تین دن کے اندر بادشاہ تجھے رہائی دلائے گا اور تجھے پھر سے تیرے عہدے پر بحال کردے گا‘‘۔ نان بائی نے بھی اپنا خواب سنایا ۔لیکن اُس کےخواب کی تعبیر یہ تھی کہ تین دن کے اندر اُس کا سر کاٹ دیا جائے گا۔سردار ساقی کو رہا کردیا گیا اور نان بائی کا سر کاٹ دیا گیا جیسا کہ خُدا نے یوسف پر ظاہر کیا تھا۔یوسف دو سال اور قید میں رہا۔

۹۔ بادشاہ کا خواب

۹۔ بادشاہ کا خواب

پیدائش ۴۱: ۱۔ ۴۵

مصر کے بادشاہ نے ایک خواب دیکھا۔ اُس نے دریا کے کنارے سات موٹی گائیں دیکھیں۔ سات دبلی گائیں دریا میں سے نکلیں اور موٹی گایوں کو کھا گئیں۔ کوئی بھی بادشاہ کے خواب کی تعبیر نہ کر سکا۔ اُس وقت سردار ساقی نے بادشاہ کو یوسف کے بارے میں بتایا۔ بادشاہ نے یوسف کو قید سے بلوا بھیجا اور یوسف نے بادشاہ کو خواب کی تعبیر بتادی۔ اُس نے کہا، ’’ جو کچھ خُدا کرنے کو ہے اُس نے تجھ پر ظاہر کر دیا ہے۔ملکِ مصر میں سات برس تک کثرت سے پیداوار ہوگی ۔اِس کے بعد سات برس کال کے آئیں گے‘‘۔بادشاہ کو معلوم ہوگیا کہ یوسف میں خُدا کا رُوح ہے۔پس اُس نے اُسے سارے ملکِ مصر کا حاکم بنا دیا۔

۱۰۔ یوسف مصر کا حکمران

۱۰۔ یوسف مصر کا حکمران

پیدائش ۴۱: ۴۷۔۴۲: ۲۸

یوسف نے اچھی فصل کے سات برسوں میں بادشاہ کےلئے کثرت سے غلّہ جمع کیا۔جب کال کے سات برس شروع ہوئے تو وہ اناج لوگوں کے ہاتھ بیچنے لگا۔اِن دنوں کنعان میں بھی کال تھا۔ اُس وقت یوسف کے دس بڑے بھائی بھی غلّہ خریدنے کے لئے مصر میں آئے۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ حکمران یوسف ہی ہے۔ یوسف نے اپنے بھائیوں کو پہچان لیا تھا۔اُس نے اُن پر جاسوسی کا الزام لگا کر تین دن کے لئے قید میں ڈال دیا۔یوسف اپنے بھائیوں سے کہنے لگا،’’ اپنی باتوں کو سچ ثابت کرنے کے لئے اپنے سب سے چھوٹے بھائی کو میرے پاس لےآؤ‘‘۔ اُس نے بھائیوں میں سے ایک کو قید میں رکھا اور دوسرے بھائیوں کو گھر والوں کے لئے اناج لے جانے کی اجازت دے دی۔

۱۱۔ یوسف اپنے آپ کو بھائیوں پر ظاہر کرتا ہے

۱۱۔ یوسف اپنے آپ کو بھائیوں پر ظاہر کرتا ہے

پیدائش ۴۳: ۱۔ ۴۵: ۲۷

یوسف کے بھائی مصر واپس جانے سے ڈرتے تھے۔جلد ہی اُنہیں اور زیادہ اناج کی ضرورت پڑ گئی۔ وہ اپنے سب سے چھوٹے بھائی بنیامین کو ساتھ لے کر یوسف کے پاس چلے گئے۔یوسف نے ابھی تک اپنے آپ کو اِن پر ظاہر نہ کیا تھا۔ یوسف نے انہیں غلّہ دیا لیکن اِن کے بوروں میں کچھ قیمتی چیزیں بھی رکھوا دیں۔پھر اُس نے اپنے نوکروں کو اپنے بھائیوں کے پیچھے بھیجا کہ اِن پر چوری کا الزام لگا کر اُنہیں واپس لے آئیں۔ سارے بھائی یوسف کے سامنے سر جھکا کر رَحم کے لئے منت کرنےلگے۔ بالکل ان پولوں کی طرح جنہیں یوسف نے اپنےخواب میں دیکھا تھا۔یوسف کےلئے اپنا راز چھپانا مشکل ہوگیا۔وہ بنیامین کےگلے لگ کر بہت رویا اور اِن سے کہا،’’ مَیں تمہارا بھائی یوسف ہوں جسے تم نےبیچ ڈالا تھا‘‘۔ بھائی گھر کو لوٹ گے اور اپنے باپ کو بتایا ، ’’ یوسف ابھی تک زندہ ہے وہ سارے مصر کا حاکم ہے‘‘۔

۱۲۔ یعقوب اور یوسف مصرمی

۱۲۔ یعقوب اور یوسف مصرمی

پیدائش ۴۵: ۲۸: ۵۔۲۶

اب یعقوب بہت بوڑھا ہو چکا تھا۔اُس نے یوسف کے ساتھ مصر میں رہنے کا فیصلہ کر لیا۔اُس نے اپنا سارا خاندان اور اپنا سارا مال اسباب ساتھ لیا اور روانہ ہوگیا۔وہ یوسف کو زندہ پا کر بہت خوش ہوا۔ اُس نے یوسف کے بیٹوں کے سر پر ہاتھ رکھ کر اُنہیں دُعا دی کہ وہ اسرائیل کے قبیلوں کے بڑے سردار بنیں۔ یعقوب نے مصر میں وفات پائی۔یوسف کے بھائی اُس ظلم کی وجہ سے جو اُنہوں نے یوسف کےساتھ کیا تھا، ڈرنےلگے لیکن یوسف نے اُن سے کہا،’’ ڈرو نہیں تم نے میرے ساتھ بُرائی کی لیکن خُدا نے اُسے ہمارے لئے بھلائی میں بدل دیا تاکہ بہت سے لوگوں کی جانیں بچ جائیں‘‘ ۔
پیارے بھائیو اور بہنو ! آسمان پر ایک ہستی ہے جو یوسف سے بھی زیادہ بڑی ہے۔اُس کا نام خُداوند یسُوع مسیح ہے۔ ظالم لوگوں نے اُس کی جان لے لی، لیکن خُدا نے اِس بُرائی کو بھلائی بدل دیا۔یسُوع مُردوں میں جی اُٹھا۔ اِس کے وسیلے سے ہر کسی کو گناہوں سے معافی مل جاتی ہے۔اُن غلطیوں سے بھی جو ہم دوسروں کے خلاف کرتےہیں۔مسیح ہمیں ہمیشہ کی موت کی سزا سے نجات دیتا ہے۔

2 تعارف؛۔

موسیٰ نامی ایک طاقتور مرد تھا ۔ اُس نے اپنے لوگوں کو غلامی سے رہائی دلائی۔ موسیٰ کی زندگی ایسی ہستی کی طرف ہماری راہنمائی کرتی ہےجو سب لوگوں کو شیطان کی غلامی سے رہائی دلا سکتا ہے۔

۱۳۔ ننھا موس

۱۳۔ ننھا موس

خروج ۲: ۱۔ ۱۰

موسیٰ ایک اسرائیلی تھا۔ موسیٰ یوسف کے تین سو سال کی بعد مصر میں پیدا ہوا۔مصر کا بادشاہ اسرائیلیوں کے ساتھ بہت بُرا سلوک کرتا تھا۔وہ غلاموں کی طرح اِن سے کام لیتا تھا۔بادشاہ نے دائیوں کو حکم دے رکھا تھاکہ اسرائیلی لڑکوں کو پیدا ہوتے ہی مار دیا جائے۔جب موسیٰ پیدا ہوا تو اس کی ماں نے اُسے چھپا لیا۔اس نے موسیٰ کو ٹوکری میں ڈالااور دریا کے کنارے سرکنڈوں میں چھپا دیا۔اِس کی بہن مریم اِس پر نظر رکھنے کے لئے قریب ہی کھڑی رہی۔بادشاہ کی بیٹی دریا پر غسل کرنے آئی۔اِسے ٹوکری میں لیٹا ننھا موسیٰ مل گیا۔ بادشاہ کی بیٹی نے اسے اپنانے کا فیصلہ کر لیا۔ موسیٰ بادشاہ کے محل میں پل کر جوان ہوا۔ اِس نے مصریوں کے تمام طور طریقے سیکھ لیے۔

۱۴۔ موسیٰ اور جلتی ہوئی جھاڑی

۱۴۔ موسیٰ اور جلتی ہوئی جھاڑی

خروج ۲: ۱۱۔ ۴: ۱۷

ایک دن موسیٰ نے دیکھا کہ ایک مصری ایک اسرائیلی غلام کو مار رہا ہے۔موسیٰ اپنے لوگوں کی مدد کرنا چاہتا تھا۔اِس نے اِس مصری کو مار ڈالا۔موسیٰ کو بادشاہ کے حضور سے بھاگنا پڑا۔موسیٰ چالیس برس تک سینا کے ریگستان میں رہا۔پھر ایک دن موسیٰ نے ایک انوکھی چیز دیکھی۔ اس نے دیکھا کہ ایک جھاڑی میں آگ لگی ہوئی ہے لیکن وہ جھاڑی بھسم نہیں ہوتی۔خُدا نے جلتی ہوئی جھاڑی میں سے موسیٰ کو پکار کرکہا، ’’ مَیں نے اپنے لوگوں کی تکلیف خوب دیکھی سو اب مَیں تجھے مصر کے بادشاہ کے پاس بھیجتا ہوں کہ تو میری قوم بنی اسرائیل کو اس کے ملک مصر نے نکال لائے‘‘۔

۱۵۔ موسیٰ بادشاہ کے پاس واپس جاتا ہ

۱۵۔ موسیٰ بادشاہ کے پاس واپس جاتا ہ

خروج ۳: ۱۱۔ ۱۰: ۲۹

موسیٰ خوفزدہ تو تھا لیکن اِس نے خُدا پر بھروسہ کیا اور واپس مصر چلا گیا۔اس کا بھائی ہارون اس کے ساتھ گیا۔انہوں نے بادشاہ سے کہا، خُداوند اسرائیل کا خُدا یوں فرماتا ہے، ’’ میرے لوگوں کو جانے دے‘‘۔لیکن بادشاہ نے کہا، ’’ مَیں خُدا کو نہیں جانتا اور مَیں بنی اسرائیل کو جانے بھی نہیں دوں گا‘‘۔ تب خُدا نے موسیٰ سے کہا، ’’ ہارون سے کہنا کہ اپنی لاٹھی کو لے کر بادشاہ کے سامنے ڈال دےتاکہ وہ سانپ بن جائے‘‘۔ہارون نے خُدا کے حکم کے مطابق کیا۔بادشاہ نے خُدا کی طاقت دیکھ لی تھی۔اس نے لوگوں کو نہ جانےدیا۔خُدا نے مصریوں کے خلاف بہت سی آفتیں بھیجیں۔ خُدا نے سارے پانی کو خون بنا دیا تاکہ لوگوں کو پینے کے لئے کچھ نہ ملے۔اِس نے مینڈکوں، مچھروں، ٹڈیوں اور اولوں جیسی نا گہانی آفتیں مصر میں بھیجیں۔ مصریوں کے سب مویشی مر گئے اور مصری بیمار ہوگئے۔لیکن پھر بھی بادشاہ نے اسرائیلیوں کو جانے نہ دیا۔

۱۶۔ ذبح کیا ہوا برّہ

۱۶۔ ذبح کیا ہوا برّہ

خروج ۱۲: ۱۔ ۳۶

خُدا نے موسیٰ سے پھر کلام کیا اور کہا، ’’ بنی اسرائیل سے کہہ کہ ہر خاندان ایک برّہ لےاور اِسے ذبح کرے اور تھوڑا سا خون لے کردروازوں کی چوکھٹوں پر لگا دے۔مَیں ملکِ مصر میں سے ہو کر گزروں گا، اور سب پہلوٹھوں کو ماروں گا۔لیکن مَیں اِس خون کو دیکھ کر تم کو چھوڑتا جاؤں گا اور نقصان نہیں پہنچاؤں گا‘‘۔جیسا خُدا نے فرمایا تھا ویسا ہی کیا۔ مصریوں کے تمام پہلوٹھے ہلاک ہوگئے۔اسرائیلیوں کا ایک بھی پہلوٹھا نہ مرا۔تب بادشاہ نے موسیٰ کو بُلا کر کہا، ’’ تم اپنی قوم کو لے کر میری قوم کے لوگوں میں سے نکل جاؤ اور جا کر اپنے خُدا کی عبادت کرو‘‘۔

۱۷۔ سمندر کی راہ س

۱۷۔ سمندر کی راہ س

خروج ۱۳: ۱۷۔ ۱۴: ۳۱

موسیٰ بنی اسرائیل کو ملک مصر سے نکال لایا تھا۔خُدا بادل اور آگ کے ستون میں ہو کر اِن کے آگے آگے چلتا تھا۔مصری بہت غصہّ میں تھے کیونکہ اِن کے غلام چلے گئے تھے۔بادشاہ اور اِس کے سارے لشکر نے بنی اسرائیل کا پیچھا کیا تاکہ وہ انہیں واپس لے آئیں۔ بنی اسرائیل ایک بہت بڑے سمندر کے پاس پہنچے جسے وہ پار نہیں کر سکتے تھے۔مصری بنی اسرائیل کا پیچھا کرتے چلے آرہے تھے۔اِن کا خیال تھا کہ اب اِن کا بچنا مشکل ہے۔موسیٰ نے ان سے کہا، ’’ ڈرو مت تم دیکھو گےکہ خُدا تمہیں بچانے کے لئے کیا کچھ کرتا ہے‘‘۔ خُدا نے سمندر میں ایک راستہ کھول دیا۔بنی اسرائیل سمندر کے بیچ میں سےخشک زمیں پر چلتے رہے۔ مصریوں نے اِن کا پیچھا کرنے کی کوشش کی لیکن پانی نے اِن کو ڈھانپ لیا۔تمام مصری سمندر میں ڈوب گئے اور بنی اسرائیل سمندر کے پار جا نکلے۔

۱۸۔ بیابان میں پانی اور خوراک

۱۸۔ بیابان میں پانی اور خوراک

خروج ۱۶: ۱۔ ۱۷: ۷

موسیٰ بنی اسرائیل کو بیابان میں لے گیا۔اِن کے پاس کھانے کے لئے کافی خوراک نہ تھی پس خُدا نے اِن کو کھانا دیا۔سفید پاپڑیوں کی طرح چھوٹی چھوٹی گول چیز زمین پر پڑی ہوئی تھی۔ بنی اسرائیل اِسے من کہنے لگے۔ہر شام خُدا اِن کے کھانے کے لئے بٹیروں کےجھرمٹ زمین پر بھیج دیتا۔جب اِن کے پاس پانی نہیں تھا تو خُدا نے موسیٰ سے کہا،’’ اپنی لاٹھی کو چٹان پر مارتو اِس میں سے پانی نکلے گا‘‘۔ یوں چالیس برس تک خُدا بیابان میں بنی اسرائیل کی حفاظت کرتا رہا۔

۱۹۔ موسیٰ خُدا کے پہاڑ پ

۱۹۔ موسیٰ خُدا کے پہاڑ پ

خروج ۱۹: ۱۔ ۲۰: ۱۷

بنی اسرائیل سینا کے پہاڑ تک آ گئے۔خُدا گرج، چمک،بادلوں اور آگ میں پہاڑ پر اترا۔ اُس نے موسیٰ سےکلام کیا، ’’مَیں خُداوند تیرا خُدا ہوں۔میرے حضور تو غیر معبودوں کو نہ ماننا۔ کسی تراشی ہوئی مورت کے آگے سجدہ نہ کرنا اور نہ ہی اِس کی عبادت کرنا۔تُو خُداوند اپنے خُدا کا نام بے فائدہ نہ لینا۔ساتوٰیں دن کو یاد رکھ کے اِسے پاک رکھنا۔اپنے باپ اور ماں کی عزت کرنا۔خون نہ کرنا۔ زنا نہ کرنا۔چوری نہ کرنا۔کسی کے خلاف جھوٹی گواہی نہ دینا۔دوسروں کے مال کا لالچ نہ کرنا‘‘۔بعد میں خُدا نے یہ حکم پتھر کی تختیوں پر لکھ دیئے اور موسیٰ پہاڑ پر سے یہ تختیاں ساری قوم بنی اسرائیل کے پاس لے آیا۔

۲۰۔ بَلّی پر سان

۲۰۔ بَلّی پر سان

خروج ۲۱: ۴۔ ۹

بنی اسرائیل خُدا کی طرف سے ملنے والی خوراک کے بارے میں شکایت کرنے لگے۔خُدا نے اِن کے درمیان زہریلے سانپ بھیج کر اِن کو سزا دی۔بہت سے لوگ سانپوں کے ڈسنے سے مر رہے تھے۔لوگ موسیٰ کے سامنے مدد کے لئے چلانے لگے۔موسیٰ نے اِن کے لئے دُعا کی۔خُدا نے موسیٰ سے کہا، ’’ ایک سانپ بنا کر اُسے بَلّی پر لٹکا دے اور جو سانپ کا ڈسا ہوا اُس پر نظر کرے گا بچ جائے گا‘‘۔ موسیٰ نے پیتل کا ایک سابپ بنایا اور سانپ کے ڈسے ہوئے جس جس آدمی نے اُس پر نگاہ کی وہ بچ گیا۔بنی اسرائیل میں موسیٰ جیسا بڑا نبی کبھی نہیں ہوا تھا۔ موسیٰ چالیس برس تک بیابان میں بنی اسرائیل کی راہنمائی کرتا رہا۔موسیٰ کی موت سے پہلےخُدا نےاُس سے کہا، ’’ مَیں اسرائیلیوں میں سے تیری مانند ایک اور نبی بھیجوں گا۔وہ لوگوں کو میرا ہر حکم بتا دے گا‘‘۔وہ ہستی یسُوع مسیح ہے۔

۲۱۔ یسُوع لوگوں کو کھانا کھلاتا ہ

۲۱۔ یسُوع لوگوں کو کھانا کھلاتا ہ

یوحنا ۶: ۱۔۵۸

کئی سال گزر گئے اسرائیلی موسیٰ کی مانند ایک اور ہستی کی راہ تکتے رہے۔آخر کار یسُوع اسرائیل کے ملک میں پیدا ہوا۔یسُوع نے موسیٰ کی طرح لوگوں کو خُدا کے بارے میں تعلیم دی۔ایک دن لوگ ایک بیابان میں یسُوع کی تعلیم سننے کے لئے گئے۔وہ بھوکے تھے اِن کے کھانے کو کچھ نہ تھا۔ایک لڑکے کے پاس پانچ روٹیاں اور دو مچھلیاں تھیں۔ یسُوع نے روٹی اور مچھلی لی اور خُدا کا شُکر کیا اس نے اس تھوڑے سے کھانے سے سب لوگوں کو پیٹ بھر کھلایا۔وہ پانچ ہزار سے زیادہ لوگ تھے۔لوگوں نے کہا، ’’ جو نبی دنیا میں آنے والا تھا فی الحقیت یہی ہے‘‘۔ یسُوع نے اُن سےکہا ،’’ زندگی کی روٹی مَیں ہوں جو میرے پاس آئے وہ ہر گز بھوکا نہ ہو گا اور جو مجھ پر ایمان لائے وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا‘‘۔

۲۲۔ یسُوع مسیح اور موسیٰ کی گفت

۲۲۔ یسُوع  مسیح اور موسیٰ کی گفت

لوقا ۹: ۲۸۔ ۳۶

موسیٰ اور ایلیاہ دونوں خُدا کے نبی تھے۔وہ یسُوع کے زمین پر آنے سے کئی سال پہلےہو کر گزرے تھے۔ایک روز وہ ایک پہاڑ کی چوٹی پر یسُوع کے ساتھ دکھائی دیئے۔وہ بڑے نورانی نظر آرہے تھے۔یسُوع کو اپنی جلد موت کے بارے میں علم تھا۔یسُوع نے اپنی موت کا ذکر موسیٰ اور ایلیاہ سےکیا۔یسُوع کے تین ساتھیوں نےانھیں آپس میں باتیں کرتے ہوئے سنا۔ایک بادل نے اِن پر سایہ کر لیا۔ خُدا کی آواز بادلوں میں سے یہ کہتے ہوئے سنائی دی،’’ یہ میرا پیار بیٹا ہے اِس کی سنو‘‘۔یہ آواز آتے ہی ساتھیوں کو یسُوع اکیلا دکھائی دیا۔

۲۳۔ یسُوع نے ہمارے لئے جان دی

۲۳۔ یسُوع نے ہمارے لئے جان دی

یوحنا ۳: ۱۴۔ ۱۶

بنی اسرائیل نے یسُوع کو قبول نہ کیا اور اُس کی جان لے لی۔سپاہیوں نے اُسے لکڑی کی ایک صلیب پر کیلوں سے جڑ دیا۔انہوں نے اُس کے ساتھ دو آدمیوں کو بھی صلیب دی۔ وہ چور اور قاتل تھے لیکن یسُوع نے کبھی خُدا کی شریعت کی نافرمانی نہیں کی تھی۔ ہم سب خُدا کا حکم توْْڑتے ہیں۔ہمیں خُدا ہمیشہ کی موت کا سزا وار ٹھہراتا ہے۔لیکن خُدا سب لوگوں سے پیار کرتا ہے۔وہ نہیں چاہتا کہ ہم ہمیشہ کی موت مریں۔اسی لئے اُس نے اپنے بیٹے یسُوع کو بھیجا کہ ہمارے گناہوں کی سزا اپنے اوپر لے لے۔موسیٰ کے زمانےمیں برّوں کی قربانی کے خون کے وسیلے سےبنی اسرائیل کے خاندان بچ گئے تھے۔یسُوع خُدا کے برّے نے ہماری خاطر جان دی۔اِس کا خون ہمارے گناہ کی قیمت ہے۔جو کوئی یسُوع کی طرف نظر اُٹھاکر دیکھے گا بچ جائے گا۔جس طرح موسیٰ نے پیتل کے سانپ کو اونچے پر چڑھایا۔ ضرور ہے کہ ابنِ آدم (یسُوع) بھی اونچے پر چڑھایا جائے، تاکہ جو کوئی اُس پر ایمان لائے اُس میں ہمیشہ کی زندگی پائے۔

۲۴۔ یسُوع آسمان می

۲۴۔ یسُوع آسمان می

اعمال ۱: ۶۔ ۱۱

یسُوع کی لاش ایک غارمیں رکھ دی گئی۔تیسرے دن یسُوع پھر سے جی اُٹھا۔بہت سے لوگوں نے اِس باتیں کیں۔ چالیس دن بعد انہوں نے اُسے آسمان پر جاتے دیکھا۔ یسُوع آج بھی زندہ ہے۔ موسیٰ ایک عظیم راہنما اور خدا کا نبی تھا۔لیکن یسُوع خُدا کا بیٹا ہے۔ وہ موسیٰ سےکہیں زیادہ بڑا ہے۔ موسیٰ نےسمندر کے راستے اسرائیل کی راہنمائی کی اور یوں وہ بچ گئے۔ لیکن یسُوع اِن تمام لوگوں کو بچانے کے لئے آیا جو اُس کے پیچھے چلتے ہیں۔ایک دن یسُوع پھر سےاسی طرح واپس آئے گا۔جس طرح وہ آسمان پر چلا گیا ہے۔وہ اِن سب لوگوں کو اپنے ساتھ آسمان پر لے جائے گا۔جو اِس پر ایمان رکھتے ہیں ۔
بھائیو اور بہنو ! کیا آپ یسُوع کے ساتھ جانے کےلےتیار ہیں ؟ ہو سکتا ہے وہ آج ہی آجائے۔’’ خُدا وند یسُوع مسیح پر ایمان لاؤ تو تم نجات پاؤ گے‘۔
آمین

آیئے اپنا امتحان لیں

آیئے اپنا امتحان لیں
1. عیسو اپنا حق کیوں کھو بیٹھا؟
2. یعقوب کی خُدا سے ملاقات کیسے ہوئی؟
3. یوسف نے کیا خواب دیکھے؟اِس کی تعبیر کیا تھی؟؟
4. مصریوں کی تباہی کی وجہ کیا تھی؟
5. خُدا نے موسیٰ کو کون سے دس احکام دیے؟
6. مسیح نے پانچ ہزار لوگوں کو کھانا کھلایا ،اِس سے ہم کیا سبق سیکھتے ہیں؟

Verwante informatie