دیکھو، سنو اور جیو کتاب نمبر 1

Samenvatting: Adam, Noah, Job, Abraham. 24 sections. It has a picture book to go along with the recording.

Scriptnummer:418
Taal:Urdu
Thema:Creation; Multiple themes
Gehoor:General
Stijl:Unclassified
Genre:Undefined
Moeilijkheidsgraad:Unassigned
Doel:Teaching
Bijbelse verwijzing:Direct
Toestand:Publishable

Tekst van het script

باب نمبر ۱: دنیا کیسے بنی؟ تعارف

عزیزو! آداب۔
آیئےاب ہم اُن لوگوں کے بارے میں سیکھتے ہیں جو ابتدا میں زمین پر بستے تھے۔ یہ لوگ ہمیں خُدا کے بارے میں بہت کچھ سکھا سکتے ہیں۔

۱۔ خُدا نے حضرت آدم اور جانوروں کو بنایا۔

۱۔ خُدا نے حضرت آدم اور جانوروں کو بنایا۔

پیدائش ۱: ۱۔۲: ۱۴

شروع میں اِس زمین کا وجود نہیں تھا۔ صرف خُدا موجود تھا۔ خُدا ایک ہے۔ وہ روح ہے ہم اُسے دیکھ نہیں سکتے۔ خُدا ساری قدرت کا مالک ہے۔ وہ سب کچھ جانتا ہے اور ہر جگہ موجود ہے۔
خُدا نے آسمان اور زمین پر موجود ہر چیز بنائی۔ اُس نے زمین کی مٹی سے انسان کو بنایا۔ خُدا نے انسان کو ایک روح بخشی تاکہ وہ خُدا کو جان سکے۔ انسان کے سارے خیال اور خواہشیں ایسی ہی تھیں جیسی خُدا چاہتا تھا۔
خُدا نے انسان کا نام آدم رکھا۔خُدا نےجن جانوروں کو بنایا تھا آدم نےان سب جانوروں کے نام رکھے۔ خُدا نے آسمان میں بھی سب روحوں اور فرشتوں کو بنایا۔ خُدا کی بنائی ہوئی ہر چیز اچھی تھی۔

۲۔ خُدا نے حوّا کو بنایا۔

۲۔ خُدا نے حوّا کو بنایا۔

پیدائش ۲: ۱۵۔۲۵

خُدا نے آدم کو رہنے کے لئے ایک خوبصورت باغ دیا جس کی وہ دیکھ بھال کیا کرتا تھا۔ وہاں ہر قسم کے نر جانور بھی تھے اور مادہ جانور بھی تھے لیکن آدم کا کوئی اِس جیسا ساتھی نہ تھا۔
خُدا نے آدم کو گہری نیند سُلا دیا، اور آدم کی ایک پسلی نکالی۔ خُدا نے آدم کی پسلی سے ایک عورت بنائی اور وہ اُسے آدم کے پاس لایا تاکہ وہ عورت اِس کی ساتھی بنے۔
آدم اور وہ عورت ننگے تھے لیکن شرماتے نہ تھے۔ وہ خُدا کے ساتھ دوستوں کی طرح باتیں کیا کرتے تھے۔ اِس خوبصورت باغ میں نہ کوئی دُکھ تھا نہ موت اور نہ ہی کوئی بُرائی تھی۔

۳۔ باغ میں سانپ کا آنا۔

۳۔ باغ میں سانپ کا آنا۔

پیدائش ۳: ۱۔۸

خُدا نے آدم سے کہا، ’’ تُو باغ کے ہر درخت کا پھل بے روک ٹوک کھا سکتا ہے، لیکن نیک و بد کی پہچان کے درخت کا پھل کبھی نہ کھانا کیونکہ جس روز تو نے اِس میں سے کھایا، تُو مرا‘‘۔شیطان ایک آسمانی فرشتہ تھا۔ وہ خُدا کے خلاف ہوگیا تھا۔ شیطان ایک خوبصورت سانپ کی صورت میں عورت کے پاس آیا۔ اُس نے عورت سے جھوٹ بولا اور اُسے بتایا کہ وہ نہیں مرے گی۔ سانپ کے کہنے پر حوّا نے وہ پھل کھایا۔ عورت نے پھل کھایا اور اِس میں سے تھوڑا سا آدم کو دیا۔ آدم نے بھی وہ پھل کھایا۔ آدم نے خُدا کی نافرمانی کی۔ جس کی وجہ سے خُدا کے ساتھ دونوں کا پرانا تعلق ٹوٹ گیا دونوں کی آنکھیں کھل گئی تھیں۔ انہیں معلوم ہوا کہ وہ ننگے ہیں خود کو ننگا دیکھ کر انہیں شرم محسوس ہوئی۔ وہ اپنے آپ کو خُدا سے چھپانے لگے۔

۴۔ آدم اور حوّا کا باغ سے نکالا جانا۔

۴۔ آدم اور حوّا کا باغ سے نکالا جانا۔

پیدائش ۳: ۱۴۔۲۴

آدم نے خُدا کی نافرمانی کی۔خُدا نے آدم اور اُس کی بیوی کو اُس باغ سےجو جنت تھا باہر نکال دیا۔خُدا نے آدم سے کہا، ’’ چونکہ تُو نے اِس درخت کا پھل کھایا ہے اِس لیے زمین تیرے سبب سے لعنتی ہوئی۔مشقت کے ساتھ تُو عمر بھر اِس کی پیداوار کھائے گا‘‘۔خُدا نے عورت سےکہا،’’ تُو درد کے ساتھ بچے جنے گی‘‘ خُدا نے سانپ سے کہا، ’’ تُو نے یہ کیا تُو ملعون ٹھہراتُو اپنے پیٹ کے بل چلے گا‘‘ تب سے سانپ آدمی کا دشمن بن گیا۔
آدم نے اپنی بیوی کا نام حوّا رکھا اِس لئے کہ وہ زندوں کی ماں ہے۔ہمارے باپ دادا حوّا کی ہی اولاد ہیں۔ ہم سب آدم کی طرح خُدا کی نافرمانی کرتے ہیں خُدا نےوعدہ بھی کیا کہ ایک دن وہ ایک ہستی کو بھیجے گا جو شیطان پر فتح پائے گی اور ہمیں خُدا سے دوبارہ ملائے گی ۔وہ ہستی خُداوند یسوع مسیح ہے

۵۔ نوح اور بڑی کشتی ۔

۵۔ نوح اور بڑی کشتی ۔

پیدائش ۶: ۱۔۲۲

آدم کی اولاد شیطان کی راہوں پر چلنے لگی۔صرف ایک شخص خُدا کی مرضی پر چلتا تھا۔اُس کا نام نوح تھا۔خُدا نے نوح سے کہا، ’’زمین ظلم سے بھر گئی ہے سو دیکھ مَیں زمین سمیت ان کو ہلاک کروں گا، مَیں خود زمین پر ایک طوفان لاؤں گا۔تو ایک کشتی اپنے لئے بنا۔تو کشتی میں جانا، تو اور تیرے ساتھ تیرے بیٹے اور تیری بیوی اور تیرے بیٹوں کی بیویاں، اور جانوروں اور پرندوں کی ہر قسم میں سے دو دو جوڑے اپنے ساتھ کشتی میں لے لینا تاکہ وہ تیرے ساتھ جیتے بچیں ۔نوح نے یوں ہی کیا، جیسا خُدا نے اُس کو حکم دیا تھا۔

۶۔ بہت بڑا طوفان۔

۶۔ بہت بڑا طوفان۔

پیدائش ۷: ۱۔۲۴

نوح نے لوگوں کو خبردار کیا کہ خُدا سب کو تباہ کرنے والا ہے ۔لیکن لوگ اپنی بدی سے باز نہ آئے۔آخر کا ر نوح، اِس کا خاندان اور سب جاندار دو
دو نر اور مادہ کشتی میں داخل ہوگئے۔خُدا نے کشتی کو باہر سے بند کردیا۔بارش ہونے لگی چالیس دن اور چالیس رات زمین پر بارش ہوتی رہی۔ زمین سے سمندر کے سوتے پھوٹ نکلے اور ساری زمین بہت بڑے سیلاب میں ڈوب گئی۔
سب لوگ، سب جانور اور سب پرندے مرگئے۔ کیا انسان کیا حیوان، کیا رینگنے والے جاندار کیا ہوا کے پرندے۔یہ سب کے سب زمین پر سے مر مٹے، فقط نوح اور وہ جو اُس کے ساتھ کشتی میں تھے زندہ بچے۔

۷۔ قوسِ قزح اور خُدا کا وعدہ۔

۷۔ قوسِ قزح اور خُدا کا وعدہ۔

پیدائش ۸: ۱۳۔۲۲

بارش تھم گئی اور ایک سال گزر جانے کے بعد زمین بھی سوکھ گئی۔نوح اس کا خاندان اور تمام جاندار کشتی سے باہر آگئے۔نوح نےخُدا کے حضور ایک قربانی چڑھائی اور خُدا اِس سے خوش ہوا۔خُدا نے آسمان پر اِن کو قوسِ قزح دکھائی اور کہا، ’’ اب میں تمام جانداروں کو کبھی سیلاب سے تباہ نہ کرؤں گا‘‘۔جب بھی قوسِ قزح ظاہر ہوگی مَیں تمہارے ساتھ کیا ہوا وعدہ یاد کرؤں گا۔
عزیزو ! جب بھی آپ کو آسمان پر قوسِ قزح نظر آئے،خُدا کے اِس وعدے کو ضرور یاد کریں کہ اب خُدا ساری دنیا کو سیلاب سے تباہ نہیں کرے گا۔خُدا ایک بار پھر دنیا کا انصاف کرے گا۔لیکن آئندہ عدالت آگ سے ہوگی۔جو لوگ ایمان دار ہیں اور خُدا کا حکم مانتے ہیں۔انہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ خُدا نے ہمیں نجات کا وسیلہ دیا ہے وہ وسیلہ خُداوند یسوع مسیح ہے۔

۸۔ بابل کا بُرج۔

۸۔ بابل کا بُرج۔

پیدائش ۱۱: ۱۔۹

نوح کے بیٹوں کے بہت سے بچے تھے۔خُدا نے اُنہیں حکم دیا ’’ ساری زمین پر پھیل جاؤ اور زندگی بسر کرو،اور پھلو پھولو‘‘۔وہ لوگ جدا ہونا نہیں چاہتے تھے۔ اُنہوں نے سوچا کہ ایک شہر تعمیر کریں گے اور ایک برج بنائیں گے۔جس کی چوٹی آسمان تک پہنچے۔خُدا نے اِن کی نافرمانی اور غرور دیکھا خُدا نے کہا،’’ یہ سب لوگ ایک ہوگئے ہیں اور ایک ہی زبان بولتے ہیں آؤ ہم وہاں جا کر اُن کی زبان میں اختلاف ڈالیں۔
یوں وہ شہر بنانے سے باز آئے اور وہ مختلف جگہوں پر جا کررہنےلگے۔ انسان کی نافرمانی کی وجہ سے اتنی زیادہ زبانیں بنیں۔ نافرمانی لوگوں کو خُدا سے بھی جدا کردیتی ہے۔

۹۔ ایوب خُدا کی عبادت کرتا ہے۔

۹۔ ایوب خُدا کی عبادت کرتا ہے۔

ایوب ۱: ۱۔۱۲

ایوب نبی ایک سچے خُدا کی عبادت کرتا اور صرف اُس کے سامنے قربانی گزارتا تھا۔ وہ شیطان کی راہ پر نہیں چلتا تھا۔ایوب بنی کے بہت سے بچے تھے،نوکر چاکر اور مویشیوں کے بڑے بڑے ریوڑ تھے۔ خُدا نے ایوب نبی کو بہت زیادہ مالدار بنایا تھا۔ایک دن شیطان کو معلوم ہوا کہ خُدا ایوب سے بہت خوش ہے۔ شیطان سمجھتا تھا کہ ایوب صرف امیر ہونے کی وجہ سے خُدا کی عبادت کرتا ہے اس نے خُدا سے کہا،’’ اگر تو ایوب سے سب کچھ لےلے تو وہ تجھے بُرا بھلا کہے گا۔
خُدا جانتا تھا کہ شیطان جھوٹ بول رہا ہے۔خُدا یہ بھی جانتا تھا کہ اگر ایوب غریب بھی ہوتا توبھی وہ خُدا کی عبادت کرتا۔خُدا نے یہ ظاہر کرنےکےلئے کہ ایوب نبی ایک اچھا انسان ہے شیطان کو جان کے علاوہ ایوب کی ہر چیز لے لینے کا اختیار دے دیا۔

۱۰۔ ایوب کا ماتم کرنا۔

۱۰۔ ایوب کا ماتم کرنا۔

ایوب ۱: ۱۳: ۲۲

ایک دن ایوب کا ایک قاصد اُس کے لئے بہت بُری خبر لایا۔ایوب کے دشمنوں نے اُس کے بیل اور گدھے چُرا لئے تھے۔ اس کے نوکروں کو بھی مار ڈالا تھا۔ آسمانی بجلی نےاُس کی بھیڑوں اور چرواہوں کو جَلا ڈالا تھا۔ڈاکو اس کے سارے اونٹ چُرا کر لے گئے تھے۔ایک نوکر سب سے زیادہ بُری خبر لےکر آیا کہ ’’ آپ کے بیٹے اور بیٹیاں اپنے بڑے بھائی کے گھر کھانا کھا رہے تھے کہ ایک بڑی آندھی چلی جس کے زور سے گھر ان پر گر گیا اور وہ دب کر مر گئے‘‘۔
ایوب نے اپنا سر منڈوایا ، زمین پر گر گیا اور کہا ’’ خُداوند نے دیا ، خُداوند نے لیا اُسی کا نام مبارک ہو‘‘۔ اتنی زیادہ مصیبت اٹھا کر بھی ایوب نے خُدا کا انکار نہ کیا۔

۱۱۔ ایوب کا دُکھ اٹھانا ۔

۱۱۔ ایوب کا دُکھ اٹھانا ۔

ایوب ۲: ۱۔ ۱۴: ۳۴

شیطان نے خُدا سے کہا ’’ اگر تو ایوب کے بدن کو تکلیف دے گا تو وہ ضرور تجھے بُرا بھلا کہے گا ، ضرور تیرے نام کا انکار کرے گا‘‘۔خُدا نے شیطان کوایک بار پھر ایوب کو آزمانےکا اختیار دے دیا۔ شیطان نے ایوب کے جسم کو سر سے پاؤں تک تکلیف دہ پھوڑں سے بھر دیا۔ ایوب کی بیوی اُس سے کہنے لگی، ’’ تو خُدا کا انکار کر اور مر جا۔ ایوب نے کہا ،’’ کیا ہم خُدا کے ہاتھ سے سکھ پائیں اور دکھ نہ پائیں؟‘‘۔ ایوب کے تین دوست اُس کے پاس آکر کئی دن تک اُس سے بحث کرتے رہے کہ ایوب نے ضرور کوئی گناہ کیا ہے جس کی خُدا اِسے سزا دے رہا ہے۔خُدا خود اُن پر ظاہر ہوا اور اُن کو بتایا کہ وہ خدا کے کاموں کو نہیں سمجھ سکتے۔ خُدا کی قدرت کی کوئی حد نہیں ہے۔وہ سب کو جانتا ہے وہ لا محدود ہے۔ وہ سب کچھ جانتا ہے وہی جانتا ہے کہ ہمارے لئے سب سے زیادہ بھلا کیا ہے۔ہمارےدکھ اور سکھ کا اختیار صرف خُدا کے پاس ہے۔

۱۲۔ ایوب کی بحالی ۔

۱۲۔ ایوب کی بحالی ۔

یوب ۴۲: ۱ ۱۷

جب ایوب نے خُدا کی بڑائی کو سمجھا تو بہت پچھتایا کہ اُس نے خُدا کی ذات پر شک کیا اور اپنی اچھائیاں بیان کرتا رہا۔ ایوب نے دوستوں کے لئے دُعا کی۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ خُدا کس طرح سے کام کرتا ہے۔ خُدا نے ایوب کو ایک بار پھر دولت مند بنا دیا اور صحت بخشی۔ اُس کے دوست اُس کے ساتھ ضیافت میں شریک ہوئے اسے تحفے دئیے۔ خُدا نے اُسے سات بیٹے اور تین خوبصورت بیٹیاں عطا کیں۔وہ اپنی کئی نسلوں کو دیکھنے کے لئے کئی برس تک جیتا رہا اور بہت بوڑھا ہوکر وفات پائی۔
عزیزو ! خُدا جانتا ہے کہ اِس زندگی میں آپ دکھ کیوں اُٹھاتے ہو۔ یاد رکھیئے ، خُدا ہمیں پیار کرتا ہے اور ہماری زیادہ سے زیادہ بھلائی چاہتا ہے۔وہ چاہتا ہےکہ ہم اُس پر بھروسہ رکھیں تاکہ ہم خُدوند یسُوع مسیح کے وسیلے سے شیطان پر فتح پا سکیں۔

تصویر نمبر 13کا تعارف

آیئے سیکھتے ہیں ایک شخص کے بارے میں جس کا نام ابَرہام تھا۔اِسے ابَراہیم کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے ۔ وہ ہمیشہ خُدا کا حکم مانتا تھا ۔ اُس کے وسیلے سے بہت سے لوگوں کو برکت ملی ہے۔

۱۳۔ ابَرہام اپنا وطن چھوڑتا ہے۔

۱۳۔ ابَرہام اپنا وطن چھوڑتا ہے۔

پیدائش ۱۲: ۱۔ ۱۳: ۴

ایک دن خُدا نے ابَرہام سے کہا ، ’’ اپنے وطن اور اپنے باپ کے گھر سے نکل کر اُس ملک میں جا جو مَیں تجھے دیکھاؤں گا اور مَیں تجھے ایک بڑی قوم بناؤں گااور زمین کے سب قبیلے تیرے وسیلے سے برکت پائیں گے‘‘۔
ابَرہام نے خُدا وند کے وعدے پر یقین کیا اور خُدا نے جیسا حکم دیا تھا ویسا ہی کیا ۔ اُس نے اپنی بیوی ، اپنے نوکروں اور اپنے سارے مال کو ساتھ لیا ۔ وہ کئی دن تک سفر کرتا رہا اور آخر کار وہ کنعان کے ملک میں جا پہنچا۔ وہاں خُدا نے اُس سے کہا،’’ یہی ملک مَیں تیری نسل کو دوں گا‘‘۔

۱۴۔ ابَرہام اور لوط۔

۱۴۔ ابَرہام اور لوط۔

پیدائش ۱۳: ۵۔ ۱۸

ابَرہام کا ایک بھتیجا تھا جس کا نام لوط تھا۔ وہ ابَرہام کےساتھ کنعان گیا۔ابَرہام اور لوط دونوں کے پاس مویشوں کے بہت بڑے ریوڑ تھے۔ابَرہام اور لوط کے چرواہوں میں اکثر جھگڑا رہتا تھا ۔ ان سب کے لئے وہاں چراگاہ کافی نہ تھی۔ ابَرہام نے لوط سے کہا، ’’ ہمارے درمیان جھگڑا نہیں ہونا چاہیے ہم کیوں نہ الگ ہوجائیں ۔زمین کا جو حصّہ بھی چاہو اپنے لئے چُن لو‘‘۔لوط اپنے لئے اور اپنے ریوڑوں کےلئے سب سے اچھی زمین چاہتا تھا۔اُس نے دریا کی زرخیز وادی چُن لی۔وہ شہر کے نزدیک ایک وادی میں جا بسا جس کا نام سدوم تھا۔خُدا نے دوبارہ ابَرہام سے کلام کیا اور کہا ،’’ یہ تمام زمین جو تیرے سامنے ہے مَیں تجھے اور تیری نسل کو ہمیشہ کےلئے دوں گا‘‘۔

۱۵۔ ابَرہام کی امن کے بادشاہ سے ملاقات۔

۱۵۔ ابَرہام کی امن کے بادشاہ سے ملاقات۔

پیدائش ۱۴: ۱۔ ۲۴

سدوم کے رہنے والے بہت بدکار تھے ۔ چار بادشاہوں نے سدوم پر حملہ کیا اور اُسے شکست دے دی۔ جیتنے والے لوط اور اُس کے خاندان کو گرفتار کر کےلے گئے۔ ابَرہام اور اُس کے ساتھی انھیں دشمن کی قید سے چھڑا لائے۔ جیسے ہی وہ جنگ سے واپس آئے اُن کی ملاقات ایک بہت بڑے بادشاہ سے ہوئی ۔ اُس کا نام ملکِ صدق تھا۔وہ سالم کا بادشاہ تھا،جس کا مطلب ’’ سلامتی ‘‘ ہے۔ملکِ صدق ابَرہام کے لئے روٹی اور مے لایا اور کہا، ’’ خُدائے قادر نے بڑی مہربانی کی ہے۔اُس نے تمہارے دشمنوں کو تمہارے ہاتھ میں کر دیا ہے ‘‘۔
ابَرہام نے سلامتی کے بادشاہ کو تحفے پیش کئے ۔ سدوم کا بادشاہ چاہتا تھا کہ ابَرہام کو تحفے دے لیکن ابَرہام نے انکار کر دیا۔وہ ایک بدکار بادشاہ سے تحفے نہیں لے سکتا تھا ۔ وہ دوبارہ سدوم میں جا کر رہنے لگا۔

۱۶۔ ابَرہام اور ستاروں کا شمار۔(

۱۶۔ ابَرہام اور ستاروں کا شمار۔(

پیدائش ۱۵: ۱۔ ۲۱

خُدا نے ابَرہام کو اپنا ’’ دوست ‘‘ کہا۔ خُدا نے کہا،’’ ابَرہام کی نسل ہمیشہ میری قوم ہو گی ‘۔ابَرہام اُداس تھا ۔اُس کے ہاں کوئی اولاد نہ تھی۔خُدا ابَرہام کو باہر لے گیا اور کہا،’’ آسمان کی طرف نگاہ کر اگر تُو ستاروں کو گن سکتا ہے تو گن ۔۔۔ تیری اولاد ایسی ہی ہوگی‘‘۔ ابَرہام نے خُدا کے وعدے پر یقین کیا اور خُدا اِس سے خوش ہوا۔ خُدا نے ابَرہام کو پھر سے بتایا کہ ایک دن اس کی اولاد ملکِ کنعان کی زمین کی مالک بن جائے گی۔

۱۷۔ اسمٰعیل کی پیدائش۔

۱۷۔ اسمٰعیل کی پیدائش۔

پیدائش ۱۶: ۱۔ ۱۶

کئی سال گزر گئے لیکن ابَرہام اور اِس کی بیوی سارہ کے ہاں کوئی اولاد نہ ہوئی ۔ ایک دن سارہ نے ابَرہام سے کہا،’’ میری لونڈی کے پاس جا شاید اُس سے میرا گھر آباد ہو‘‘۔سارہ کی لونڈی ہاجرہ اُمید سے ہوگئی۔ سارہ ہاجرہ سے حسد کرنے لگی اور اِس پر سختی کرنے لگی۔ہاجرہ کے پاس خُدا کا فرشتہ آیا اُس نے اُسے تسلی دیتے ہوئے کہا،’’ تیرے ہاں ایک بیٹا ہوگا اُس کا نام اسمٰعیل رکھنا۔ اسمٰعیل کی اولاد کثرت سے ہوگی اور وہ ایک بڑی قوم بنے گی‘‘۔اسمٰعیل عربوں کا باپ بنا ۔خُدا نے ابَرہام سے کہا ،’’ تیری بیوی سارہ کے ہاں بھی بیٹا پیدا ہوگا اور اُس کے وسیلے سے مَیں تیرے ساتھ کہے ہوئے وعدوں کو پورا کروں گا‘‘۔

۱۸۔ سارہ کی ہنسی۔

۱۸۔ سارہ کی ہنسی۔

پیدائش ۱۸: ۱۔ ۱۵

جب ابَرہام ننانوے برس کا اور سارہ نوے برس کی ہوگئ تو خُدا کے تین قاصد اُن کے پاس آئے۔سارہ نے جلدی جلدی کھانا تیار کیا اور ابَرہام نے خیمے سے باہر انہیں کھانا کھلایا ۔اُن قاصدوں میں سے ایک نے خُدا کا پیغام ابَرہام کو دیا، ’’ آج سے نو ماہ بعد سارہ کے ہاں ایک بیٹا ہوگا ‘‘۔ سارہ خیمے کے اندر تھی اُس نے بھی یہ بات سُن لی ۔ وہ اپنے دل میں ہنس دی۔خُدا نے ابَرہام سےکہا ،’’ سارہ کیوں ہنسی ؟ کیا خُدا کے لئے کوئی بات مشکل ہے‘‘۔خُدا کے وعدے کے مطابق سارہ نے بڑھاپے میں ایک بیٹے کو جنم دیا۔ انہوں نے اُس کا نام اضحاق رکھا جس کا مطلب ہے ’’ ہنسی‘‘۔

۱۹۔ سدوم کےلئے ابَرہام کی دُعا۔

۱۹۔ سدوم کےلئے ابَرہام کی دُعا۔

پیدائش ۱۸: ۱۶۔۱۹: ۲۹

سدوم کے لوگ بہت بدکار تھے اِس لئے خُدا نے انہیں تباہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ خُدا نے ابَرہا م کو بتایا کہ وہ کیا کرنے والا ہے۔ابَرہام کو لوط یاد آیا،اس نے پوچھا ، ’’ کیا تو نیک کو بد کے ساتھ ہلاک کرے گا‘‘ ۔ ابَرہام سدوم کو بچانا چاہتا تھا ۔وہ خُدا سے منت کرنے لگا خُدا نے فرمایا، ’’ اگر مجھے شہر میں صرف دس راستباز بھی مل جائیں تومیں اُسے تباہ نہیں کرؤں گا‘‘۔
خُدا کے قاصد سدوم میں داخل ہوگئے۔ وہاں صرف لوط ہی ایک نیک شخص تھا ۔ قاصدو ں نے لوط سے کہا ،’’ شہر سے بھاگ جاؤ‘‘۔خُدا نے آسمان سے آگ برسائی ۔سارا سدوم جل کر راکھ ہوگیا ۔ صرف لوط اور اُس کی دو بیٹیاں زندہ بچیں۔

۲۰۔ ابَرہام قربانی دیتا ۔

۲۰۔ ابَرہام قربانی دیتا ۔

پیدائش ۲۱: ۱۔۲۲: ۱۹

ابَرہام کا بیٹا اضحاق اب جوان ہوچکا تھا ۔ تب خُدانے ابَرہام کو آزمایا ۔ خُدا نے اُس سے کہا ،’’ تُو اپنے بیٹے اضحاق کو جو تیرا اکلوتا ہےمیرے لئے قربانی کے طور پر چڑھا‘‘۔ابَرہام کو خُدا پر ایمان تھا ۔ اُس نے خُدا کا حکم مانا۔ وہ جانتا تھا کہ خُد ا اضحاق کو پھر سے زندہ کر سکتا ہے۔ابَرہام اضحاق کو ذبح کرنے ہی کو تھا کہ خُداوند کے فرشتہ نے اُسے پکارا، ’’ تُو اپنا ہاتھ لڑکے پر نہ چلا، اب مَیں جان گیا ہوں کہ تو نے اپنے اکلوتے بیٹے کو میرے لئے قربان کرنے سے انکار نہ کیا۔پھر ابَرہام نے جھاڑی میں پھنسے ہوئے ایک مینڈھے کو دیکھا اور اُس کی قربانی دی۔

۲۱۔ بزرگ ابَرہام اور اُس کا نوکر ۔

۲۱۔ بزرگ ابَرہام اور اُس کا نوکر ۔

پیدائش ۲۴: ۱۔ ۲۵: ۲۶

ابَرہام بہت بوڑھا ہوچکا ہوتھا۔اُس نے اپنے نوکر کو پاس بلاکر کہا،’’ میرے وطن واپس جا اور میرے بیٹے اضحاق کے لئے ایک بیوی ڈھونڈ کر لا‘‘۔ ابَرہام یہ نہیں چاہتا تھا ک اضحاق ملکِ کنعان کو چھوڑ کر چلا جائے یا کنعان کی بدکار عورتوں میں سے کسی ایک کے ساتھ شادی کرلے۔ نوکر نے ابَرہام سے وعدہ کیا اور اس کے وطن روانہ ہوگیا ۔ خُد اُس نوکر کوسیدھا ابَرہام کے رشتہ داروں کے پاس لے گیا۔ وہاں اُسے اضحاق کے لئے ایک خوبصورت لڑکی مل گئی۔اُس کا نام ربقہ تھا۔ وہ نوکر کے ساتھ اضحاق کی بیوی بننے کے لئے ابَرہام کے پاس چلی آئی۔
اضحاق اور ربقہ کے ہاں جڑواں بیٹے پیدا ہوئے ان میں سے ایک کا نام یعقوب رکھا گیا ۔ وہ قوم بنی اسرائیل کا باپ کہلایا ۔ آج بھی اسرائیلی اِس ملک میں آباد ہیں ۔ جس کا نام کنعان ہے۔ اسرائیل میں ایک شخص پیدا ہوا جو ساری دنیا کے لئے برکت کا باعث بنا۔

۲۲۔ یسُوع کی پیدائش۔

۲۲۔ یسُوع کی پیدائش۔

متی ۱: ۱۸۔ ۲۵ ؛ گلتیوں ۴: ۴۔ ۵

خُدا کا کلام سچا ہے۔ خُدا نے آدم کو بتایا تھا وہ اپنی ایک چنی ہوئی ہستی کو بھیجے گا۔ وہ ہستی شیطان کو شکست دے گی۔خُدا نے نوح کو خبردار کیا تھا کہ وہ بدکاروں کو دنیا سے مٹا دے گا۔خُدا نے ایوب کو سمجھادیا تھا کہ وہ ہر کام میں ہماری بھلائی چاہتا ہے۔ اس نے ابَرہام پر ظاہر کیا تھا کہ وہ ہمیشہ ہی اپنے وعدے پورا کرتا ہے۔
جب وقت پورا ہوگیا تو یسُوع اسرائیل کے ملک میں پیدا ہوا ۔ یسُوع کی ماں کنواری تھی ۔اس کا نام مریم تھا ۔ یسُوع کا باپ واحد سچا خدا ہے۔ یسُوع ہی وہ ہستی ہے جو ساری دنیا کے لئے برکت کا باعث بنی۔ یسُوع شیطان کو شکست دینے اور ہمیں خُدا کے پاس لے جانے کے لئے آیاہے۔

۲۳۔ یسُوع کی صلیبی موت ۔

۲۳۔ یسُوع کی صلیبی موت ۔

گلتیوں ۳: ۱۳۔۱۴

یسُوع نے بڑے ہو کر لوگوں کو خُدا کی راہیں بتائیں۔کئی معجزے کئے تاکہ لوگ جانیں کہ وہ خُدا کی طرف سے آیا ہے۔ بہت سے لوگوں نے یسُوع کو قبول نہ کیا ۔انھوں نے یسُوع کو ایک لکڑی کی صلیب پر کیلوں سے جڑ دیا۔ ایک سپاہی نے اپنے نیزے سے یسُوع کی پسلی چھید ڈالی۔ یسُوع سچ مچ مر چکا تھا ۔
بہنو اور بھائیو ! خُدا نے آدم کو بتا دیا تھا اگر وہ اس درخت کا پھل کھائے گا تو وہ مر جائے گا۔ ہم سب نے خُدا کی نافرمانی کی ہے ، ہم ہمیشہ کی موت کے سزا وار ہیں۔ یسُوع نےکوئی گناہ نہیں کیا ۔ یسُوع نے ہمارے گناہوں کی خاطر اپنی جان دے دی۔
یاد کیجئے ! کہ خُدا نے کس طرح ابَرہام کو قربانی کے لئے اضحاق کے بدلے مینڈھا مہیا کیا تھا ؟ خُدا نے ہمارے لئے بھی اکلوتا بیٹا دے دیا تاکہ وہ ہمارے بدلے اپنی جان دے دے۔ یاد کیجے کہ خُد نے آدم سےکہا تھا کہ وہ شیطان کو شکست دینے کےلئےایک عظیم ہستی کو بھیجے گا۔ یسُوع نے ہماری خاطر اپنی جان دی تو شیطان کو شکست ہو گئی۔ شیطان میں اتنی طاقت نہیں رہی کہ وہ ہمیں ہمیشہ کی موت مار سکے۔

۲۴۔ یسُوع زندہ ہے !

۲۴۔ یسُوع زندہ ہے !

یوحنا ۲۰: ۱۹۔ ۲۹

یسُوع کی لاش کو قبر میں رکھ دیا گیا۔ یسُوع تیسرے دن مُردوں میں سے جی اُٹھا اور اپنے شاگردوں پر ظاہر ہوا۔ اِن میں ایک شاگرد جس کا نام توما تھا وہاں موجود نہ تھا۔ شاگردوں نے بعد میں توما کوبتایا کہ اُنھوں نے یسُوع کو دیکھاہے ۔ توما نے یقین نہ کیا۔یسُوع شاگردوں پر دوبارہ ظاہر ہوا۔ یسُوع نے توما کو اپنے ہاتھوں پر کیلوں کے زخموں کے نشان دکھائےاور اپنی پسلی میں نیزے کا زخم بھی دکھایا۔یسُوع نے توما سے کہا،’’ بے اعتقاد نہ ہو بلکہ اعتقاد رکھ۔ مبارک وہ ہیں جو بغیر دیکھے ایمان لائے‘‘۔
بہنو اور بھائیو ! ہم توما کی مانند نہ بنیں جس نے خُدا پر شک کیا۔آیئے ہم ابَرہام کی مانند بنیں جو خُدا کے وعدوں پر ایمان لایا۔ ہم یسُوع پر ایمان لانے سے ہی خُد کو جان سکتے ہیں۔اِس میں ہمیشہ کی زندگی حاصل کرسکتےہیں۔

آئیے اپنا امتحان لیں

1. دنیا میں پہلا خاندان کون سا تھا؟
2. نوح کےزمانے میں کون سے خاص واقعات پیش آئے؟
3. ہم کیسے جانتے ہیں کہ ایوب نبی کی زندگی میں خُدا کا ہاتھ تھا؟
4. خُدا نے ابَرہام سے کیا ہوا وعدہ کیسے پورا کیا؟
5. خُدا ابَرہام سے بیٹے کی قربانی کیوں چاہتا تھا؟
6. ہم ہمیشہ کی زندگی کیسے حاصل کر سکتےہیں؟

Verwante informatie